ابنا: شام سے موصولہ اطلاعات کے مطابق شام کے حکام اپنے ملک کے بحران کو سیاسی طریقے اور تمام گروہوں کی مشارکت سے حل کرنے کی مسلسل کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔ ادھر شام میں قومی مذاکرات کمیٹی نے بھی بحران کے پرامن طریقون سے حل کئے جانے پر تاکید کی ہے۔ اس کمیٹی نے گذشتہ روز اپنے اجلاس میں قومی مذاکرات کے جاری رہنے اور شام کے داخلی امور میں بیرونی ملکوں کی عدم مداخلت پر زور دیا۔ اس کمیٹی کا کہنا ہے کہ دہشتگردوں کو ہتھیاروں کی ترسیل روکی جائے اور ہر وہ اس اقدام سے پرہیز کیا جائے جس سے فرقہ وارانہ جھڑپوں کا اندیشہ ہو۔ قومی مذاکرات کمیٹی نے تشدد آمیز کاروائيوں کے خاتمے پر بھی تاکید کی ہے۔ شام کی پارلیمنٹ اور قومی مذاکرات کمیٹی کے رکن فايز صايغ نے کہا ہے کہ شام کے گروہوں اور سیاسی پارٹیوں کو ملک وقوم کے مفادات کو مد نظر رکھ کر ملک کے بحران کو حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اور ملک کے مفادات کو پارٹی مفادات پر ترجیح دینی چاہیے۔ فايز صایغ نے دہشتگردوں کے ہاتھوں شام کے بے گناہ عوام کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت ترقی اور بالندگي کا نام ہے جو جنگ و خونریزی سے کوئي سو فیصدی منافات رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شام کی قوم کے ہمدرد ہرگز جنگ اور سازشوں کے حامی نہیں ہوسکتے کیونکہ شام کے عوام کو گذشتہ مہنیوں کے دوران نہایت شدید نقصانات اٹھانے پڑے ہیں۔ اس کمیٹی کی نشست میں اپوزیشن کی مختلف پارٹیوں، حکومت کی حامی پارٹیوں اور سماجی اور مذہبی تنظیموں نے بھی شرکت کی۔ در این اثنا شام کے امور میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے اخضر ابراہیمی نے کہا ہے کہ جینوا میں روس اور امریکہ کے نمائندوں نے مذاکرات میں ان سے کہا ہے کہ اب بھی شام کے بحران کو پرامن طریقوں سے حل کیا جاسکتا ہے۔ اخضر ابراہیمی نے جینوا میں بند دروازوں کے پیچھے امریکہ اور روس کے اعلی حکام کے ساتھ مذاکرات کرنے کے بعد ایک بیان میں کہا کہ جینوا نشست سے شام کے بحران کو مفاہمت آمیز طریقوں سے حل کرنے کی کوششوں کو جاری رکھنے اور عالمی سطح پر مزید وسیع پیمانے پر ان کوششوں کو آگے بڑھانے کا راستہ نکلا ہے۔ انہوں نے کہاکہ جینوا نشست میں شریک ملکوں نے کہا ہے کہ کوئي بھی سیاسی راہ حل جینوا معاہدے کی اساس پر پیش کیا جانا چاہیے۔ واضح رہے جینوا معاہدہ اس وقت طے پایا تھا جب کوفی عنان شام کے امور میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے تھے۔ اس معاہدے میں کہا گيا ہے کہ شام میں ایک عبوری حکومت تشکیل دی جائے اور جنگ بندی عمل میں آئے۔ قابل ذکرہے جینوا معاہدے میں بشار اسد کے اقتدار سے ہٹنے کے بارے میں کچھ نہیں کہا گيا ہے جبکہ امریکہ اور اسکے اتحادیوں کا اولین مطالبہ یہی ہے کہ بشار اسد حکومت سے علیحدگي اختیار کرلیں۔ ادھر شام کی اپوزیشن کے ایک رہنما محمود مرعی نے کہا ہے کہ امریکہ اخضر ابراہیمی اور روس کی تجویز کا مخالف ہے اور نہیں چاہتا کہ اس تجویز کے تحت شام کا بحران پرامن طریقے سے حل کیا جاسکے بلکہ امریکہ محض فوجی طاقت استعمال کرنے کے درپے ہے۔ ادھر یورپی یونین بھی امریکہ کی پیروی کرتے ہوئے شام کے خلاف جنگ کے نقارے بجارہی ہے۔ شام کے خلاف امریکہ کے پراپگينڈوں میں یورپی یونین کی مشارکت سے یہ بات صاف ظاہر ہے۔ اطلاعات کے مطابق یورپی یونین آج اپنے اجلاس میں شام کے خلاف دشمنانہ اقدامات میں شدت لانے کا جائزہ لے رہی ہے اور اس نشست میں شام کے مخالف گروہ بھی شرکت کررہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔/110
10 دسمبر 2012 - 20:30
News ID: 371328
عالمی رائے عامہ شام کے عوام اور اقوام متحدہ کے نمائندے اخضر ابراہیمی شام کے بحران کو مفاہمت سے حل کرنے پر زوردے رہے ہیں اس کے باوجود امریکہ اور اس کے پٹھو ممالک فریبی اور ریاکارانہ ہتھکنڈوں کے ذریعے شام میں فوجی مداخلت کی زمیں ہموار کررہے ہیں۔